Year Of Favors 2020

Year Of Favors 2020

Bizon TV No Comments

2020 احسانات کا سال

میری زندگی کے بہت سے سال صرف نالائقی میں گزرے۔میں بھی ہمیشہ سے عام لوگوں کی طرح عام سی زندگی گزارتا رہا وہی صبح دوپہر شام دن مہینے سال گزرتے چلے گئے۔زندگی کیا ہوتی ہے لمحہ کیا ہوتا ہے وقت کس بلا کا نام ہے دنیا داری کی مصروفیت نے اس طرف دھیان ہی نہیں جانے دیا۔دنیا کی مصروفیت کی طرح میں بھی ایک شدید مصروف ترین انسان اور خود میں اتر آنے والا انسان ثابت ہوا پھر اچانک میری یوم پیدائش کے دن 24 مارچ 2020 کو لاک ڈاؤن کی صورتحال پیدا ہوئی۔بے چین سڑکیں سناٹے کی شکل اختیار کر گئی ۔ہر چھوٹی بڑی دوکان کا وجود ایسا ہو گیا جیسے یہاں صدیوں سال پہلے لوگ بستے تھے اب صرف کھنڈرات ہیں۔سڑکوں پر چلنے والی ٹریفک کے ہارن موبائل فون پر بجنے والی گھنٹی و کی صورت میں تبدیل ہوگئے۔مجھے ملک اور بیرون ملک سے اس طرح کال رسیو ہونی شروع ہوئی جیسے لاک ڈاؤن کی وجہ شاید میں ہوں ۔فون کال کرنے والوں میں بہت پڑھے لکھے مختلف شعبوں کے ماہر دنیا کے کامیاب ترین انسان اور اپنی زندگیوں میں مشینوں کو مات دینے والے لوگ شامل تھے لیکن مجموعی طور پر تمام لوگوں میں ایک بات مشترک تھی حیرانگی ۔۔۔۔۔۔سب کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ دنیا ترقی کے اس دور میں ہے جہاں انسان کا ہاتھ دنیا کے نظام کی نبض پر ہیں۔آج کا انسان پانیوں پر بند باندھتا ہے۔ دیوہیکل پہاڑوں کو چیر کر اپنی آسائش کے لئے کارپٹ سڑک بناتا ہے۔جسمانی تکلیف کے راز کو چیر کر گولی انجیکشن اور سرجری جیسے مسیحا پیدا کرچکا ہے۔اپنے سے بڑا بوجھ اٹھانے کے لئے مشینوں جیسے غلام پیدا کرچکا ہے اور اس جیسی نہ جانے کتنی ترقیوں کے حصول حاصل کر چکا ہے ۔تو پھر ایک ان دیکھا جرثومہ کیسے آج کے انسان کو چیلنج کر سکتا ہے ۔ہم سب کو شکر گزار ہونا چاہیے اس سال کا جس سال نے ہم سب کو پوری دنیا کو یہ باور کروایا ہے کہ انسان خود میں جتنا بھی تورم خان بن جائے اس کی حقیقت ایک نہ دکھنے والے جرثومے سے شکست کھانے کی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ایک نہ دیکھنے والا جرثومہ دنیا کے ساڑھے سات ارب دماغوں کو چت کر سکتا ہے تو اس جرثومے کا خالق اور تمام مخلوقات کا رب کس کمال طاقت کا مالک ہوگا ۔دنیا میں جتنے زندہ لوگ ہیں جو اس سال سے گزرے وہ بے شک کلمہ گو ہو یہ دائرہ اسلام سے باہر میدان حشر میں اللہ کی قدرت ثابت کرنے والا اس صدی کا یہ سال اللہ کی ایک بڑی نشانی اور اس کی پہچان کے لیے کافی ہوگا اور جب پوچھا جائے گا کہ کیا غورو! فکر کے لئے وہ لمحہ کافی نہیں تھا تو ہم میں سے کسی کے پاس کوئی عذر بیان کرنے کی طاقت نہیں بچے گی۔آج یکم جنوری 2021 میں ہم داخل ہوچکے ہیں آپ سب کو جمعۃ المبارک اب اس سال میں ہمیں طے کرنا ہے آیا ہم نے غلط فہمی میں زندگی گزارنی ہے جو ہم سابقہ ادوار میں گزارتے آئے یا ہم سب کو غور و فکر کا دور شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ جزاک اللہ خیر احسن سید۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *